بنگلورو:4/اکتوبر(ایس اؤ نیوز)مسلسل پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہورہے اضافے سے عوام میں پھیلتی سخت ناراضگی اور برہمی کو دیکھتے ہوئے آخر کاربیدار ہوئی مرکزی حکومت نے جمعرات کو فی لیٹر پٹرول اور ڈیزل پر 2.50روپئے کم کرنے کا اعلان کی ہے۔ حکومت نے فی لیٹر ایندھن پر 1.50روپئے سس کم کرتے ہوئے بقیہ ایک روپیہ تیل کمپنیوں کو ادا کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ جب کہ کانگریس کے ریاستی لیڈران نے ایندھن کی قیمتوں میں کی گئی کٹوتی کو کانگریس کی طرف سے منائے گئے بھارت بند کا اثر کہاہے۔
ایکسائزسس میں کٹوتی سے مرکزی حکومت کو 10،500 کروڑ روپیوں کا نقصان ہونے کی جانکاری دیتے ہوئے وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے ریاستی حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بھی مرکزی حکومت کی طرح ٹیکس یا ویاٹ میں کٹوتی کریں۔ اگر ملک کے تمام بڑے شہروں اور ریاستو ں کے صدر مقامات کا موازنہ کریں تو دہلی میں سب سے کم یعنی فی لیٹر 84روپئے اور ڈیزل 75.45 روپئے فروخت ہوتاہے۔ عالمی سطح پر بدھ کو گزشتہ چاربرسوں میں سب سے زیادہ فی بیارل 86ڈالر ہونے اور امریکہ میں سود کی شرح میں اضافے سے عوام کے بوجھ کو کم کرنے کے لئے ایندھن کی قیمتوں میں کٹوتی کئے جانے کی بات کہی۔
اس سلسلے میں اخبارنویسوں سے بات کرتےہوئے ریاستی وزیر ڈی کے شیو کمار نے کہاکہ بہت پہلے ہی ایندھن کی قیمتوں میں کٹوتی ہونی چاہئے تھی خاص کر اس وقت عالمی سطح پر پٹرول کی قیمت بہت ہی کم تھی۔ اب جب کہ انتخابات قریب ہیں عوام کو دھوکہ دینے کے لئے یہ کٹوتی ہوئی ہے ،مگر یہ کوئی بڑی کٹوتی نہیں ہے بس سیاست ہورہی ہے۔
ریاستی وزیر برائے اقلیتی فلاح وبہبودی ضمیر احمد خان نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کٹوتی کو کانگریس پارٹی کی طرف سے منائے بھارت بند کا نتیجہ بتاتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی سے سوال کیا کہ کیا اب غریبوں کاخیال آیا، اتنے دن کہاں تھے یہ وزیراعظم صاحب،64روپئے سے 75روپئے تک کا اضافہ کرنے کے بعد ڈھائی روپئے کم کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے انہوں نے سوال کیا کہ گیارہ روپیہ بڑھا کر ڈھائی روپیہ کم کرنے سے کس کو کتنا فائدہ ہوگا ؟ ضمیر احمد خان کے مطابق اب چونکہ الیکشن نزدیک ہیں اسی لئے کٹوتی کی گئی ہے۔